Home » Archives for 2021
- صفحہ اوٓل
- قومی
- سیاست
- انٹرٹینمنٹ
- بزنس
- صحت
- سائنس اور ٹیکنالوجی
- دلچسپ و عجیب
- اسلام
- سیاحت
- کھیل
- تعلیم
- اخبار
تازہ ترین!
ممبئی(این
این آئی) شاہ رخ خان کی جانب سے دھوکا دیے جانے پر ان کی اہلیہ گوری خان نے اپنا
ردعمل بتادیا۔بالی ووڈ کے رومانس کنگ شاہ رخ خان اور گوری خان کی محبت کی کہانی کسی
سے ڈھکی چھپی نہیں، شاہ رخ خان خود متعدد بار بتاچکے ہیں کہ 1991 میں شادی سےپہلے
گوری خان کو پانے کے لیے انہیں کیا کچھ کرنا پڑا تاہم گوری خان کی اپنے پیار کے
حوالے سے پہلی بار لب کشائی کی ہے۔بھارتی میڈیا میں شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان
کا ایک پرانا انٹریو وائرل ہورہا ہے
جس میں وہ اپنے دوست اور بالی ووڈ کے ہدایت کار
کرن جوہر کے مشہور شو 'کافی ود کرن میں موجود ہیں جہاں وہ بتاتی ہیںاگر شاہ رخ خان
نے انہیں دھوکا دیا تو وہ کیا کریں گی۔میزبان نے فلم پروڈیوسر گوری خان سے سوال کیا،
کیا آپ کی زندگی میں شاہ رخ خان کی خواتین مداحواں کے حوالے سے کبھی ایسا لمحہ آیا
جو آپ نے خود کو غیرمحفوظ تصور کیا ہو یا پھر اداکار کے ہر وقت خواتین کے اردگرد
رہنے سے کسی قسم کا مسئلہ ہو؟گوری خان نے جواب دیامیں اس طرح کے سوالات سے بہت چڑتی
ہوں اور مجھے فوراً غصہ آجاتا ہے۔
اگرچہ آپ اسے اپنے ایسٹر کے تحفے کے طور نہیں لیں گے تاہم یہ ابھی تک مکمل اور درست حالت میں ہے۔چاکلیٹ کے دھاتی ڈبے کے ساتھ ملکہ وکٹوریہ کا ہاتھ سے لکھا یہ پیغام بھی موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 'میں آپ کے نئے سال کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں۔'ڈبے پر 'ساؤتھ افریقہ 1900' بھی لکھا گیا ہے جبکہ ساتھ میں ملکہ کی تصویر بھی ہے۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ 'خیال یہی کیا جاتا ہے کہ ہنری نے ہیلمٹ اور چاکلیٹ کو جنگ کی یادگار کے طور پر رکھ لیا تھا۔ یہ چیزیں ان کی بیٹی فرانسس گریٹ ہیڈ کے سامان سے ملی ہیں جو 2020 میں 100 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔سنہ 1899 سے 1902 تک جاری رہنے والی بوئر جنگ میں برطانوی فوجوں نے جنوبی افریقہ کی دو آزاد ریاستوںکے خلاف لڑائی لڑی تھی جن کو بوئرز چلا رہے تھے اور وہاں سے بڑی مقدار میں ہیرے اور سونا ملا تھا۔ملکہ وکٹوریہ نے آدھ پونڈ کی ایک لاکھ چاکلیٹ بارز فوجیوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے بھجوائی تھیں۔اس وقت برطانیہ میں چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں میں کیڈبری، فرائی اینڈ رینٹریشامل تھیں جن کی یونین بنی ہوئی تھی اور وہ جنگ کے خلاف تھیں، اس لیے انہوں نے بغیر کسی برینڈنگ کے ٹِن پیکس تیار کیے تھے۔تاہم ملکہ نے اصرار کیا کہ فوجیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کو یہ تحائف گھر سے بھیجے گئے ہیں اس لیے کچھ چاکلیٹس پر برینڈنگ کر دی تھی تاہمدھاتی دبوں پر ایسے ہی رہنے دیا تھا۔نیشنل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ دھاتی ڈبے ملے تھے تاہم معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کا اصل مالک کون تھا کیونکہ زیادہ تر فوجیوں نے چاکلیٹس کھا لی تھیں، تاہم یہ ایک واحد واقعہ ہے جس میں اس فوجی کا حقیقی معنوں میں پتا چلا ہے جنہیں وہ بھجوائی گئی تھی۔
لاہور(ڈیلی پاکستان
آن لائن)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن
اتھارٹی(پی ٹی اے) نے چوری اورگمشدہ فون بلاک کرنے کے لئے نیا
نظام نافذ کر دیا، صارف کی شکایت کے بعد 24 گھنٹے میں فون بلاک کیا جائے گا۔
تفصیلات
کےمطابق پی ٹی اے کی جانب سے چوری اور
گمشدہ فون بلاک کرنے کے لئے نیا نظام نافذ کر دیا گیا ہے ۔موبائل بلاک کرنے کیلئے
نئے خود کار نظام ایل ایس ڈی ایس کا آغاز کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین موبائل کا
ممکنہ غلط استعمال روکنے کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔پی ٹی اے نے کہا کہ ایل ایس ڈی
ایس خود کار نظام ہے جو پی ٹی اے سسٹم کیساتھ مربوط ہے، چوری شدہ موبائل کی شکایت
کے بعد 24 گھنٹے میں بلاک کیا جائے گا۔
پی
ٹی اے کے مطابق صارفین پی ڈی اےکی ویب سائٹ پر بھی بلاکنگ کیلئے درخواست دے سکتے ہیں،
بلاکنگ درخواست کے کامیاب اندراج کے بعد حوالہ نمبر فراہم کیا جائے گا اور گمشدہ
فون ملنے پر صارفین موبائل ان بلاک بھی کرا سکیں گے۔
سنچورین(ڈیلی
پاکستان آن لائن)شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں کم ترین اننگز میں 50وکٹیں لینے
کا وقار یونس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
وقار
یونس نے اپنے کیریئر کے دوران 50 وکٹیں 26 اننگز میں مکمل کیں تھیں جبکہ شاہین شاہ
آفریدی نے یہ کارنامہ 24 اننگز میں سرانجام دیا ہے۔حسن علی بھی یہ کارنامہ 24
اننگز میں انجام دے چکے ہیں۔شاہین شاہ آفریدی نے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے تیسرے
میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں تھیں۔
کراچی
(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کھلاڑیوں کو
ون ڈے انٹرنیشنل سیریز ادھوری چھوڑ کر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے کی
اجازت دینے کے جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
جنوبی
افریقہ کے پاکستان کے ہاتھوں ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد شاہد آفریدی نے اپنے ایک ٹویٹ
میں کہا یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ نے سیریز کے بیچ میں
کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کیلئے جانے کی اجازت دے دی۔ یہ بہت ہی افسوسناک ہے کہ کہ ٹی
20 لیگز کس طرح انٹرنیشنل کرکٹ کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے سوچ بچار کرنا
ہوگی۔
انہوں
نے قومی ٹیم کو فتح کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فخر زمان نے جوہانسبرگ کی طرح یہاں
بھی سنچری سکور کی، بابر ہمیشہ کی طرح کلاس کے کھلاڑی رہے، تمام باؤلرز نے خوب جان
لڑائی، بہت بہترین طریقے سے میچ میں فتح حاصل کی گئی۔
کراچی (ویب ڈیسک)
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے سابق کپتان سرفراز احمد کے حق میں بیان دے
دیا۔
جنوبی افریقا کے خلاف سیریز
میں فتح کے بعد پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے بابراعظم سے سرفراز احمد کو
کھلانے کے حوالے سے استفسار کیا۔
قومی ٹیم کے کپتان نے
کہا کہ مڈل آرڈر میں استحکام کے لیے سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل کیا، مجھے اُن
پر بھروسہ ہے اس لیے ساتھ رکھا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی
افریقا کے خلاف سیریز میں ٹاپ آرڈ ر نے بھرپور انداز میں اپنی ذمے داری نبھائی
ہے۔
صدر مملکت نے ایچ ای سی
ترمیمی آرڈیننس 2021 کی منظوری دیدی، اب چیئرمین کی تعیناتی کتنے سال کیلئے ہو گی
؟
بابراعظم نے مزید کہا
کہ مڈل آرڈر کو بھی تسلسل کے ساتھ مظاہرہ کرنا ہوگا، سرفراز احمد کو ٹیم کی بیٹنگ
لائن کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیسرا میچ کھلایا۔
کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ نے کراچی رجسٹری میں کیس
کی سماعت کے دوران کمشنر کراچی پر ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ پیش کر نے پر سخت برہمی کا
اظہار کیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمشنر کو ہٹانے جارہے ہیں ، بڑی معذرت
کےساتھ ایساکہامگرہمارے سا منے ایسی رپورٹ ہیں کیاکریں، کمشنر کراچی ،ڈی جی ایس بی
سی اے کوپتا نہیں بعدمیں کتنے نیب کیس بنیں گے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی رائل پارک کیس کی سماعت ہوئی جس
دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر کراچی سامنے آئیں،چیف جسٹس نے
کمشنر کراچی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے جو کام کرنے کو کہا تھا کیا ہوا؟
عدالت نے کمشنر کراچی کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ز کی رپورٹ پیش کرنے پر برہمی کا
اظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمشنر کراچی کو فارغ کریں،
ہمارے سامنے ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹ کیسے پیش کی؟ ہم نے سب احکامات آپ کو خود دیئے
تھے ۔
کمشنر کراچی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاکی گروَانڈ اور کھیل کے
میدان بنا دیئے ہیں ، ، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا آرڈر کیا تھا اور یہ کیا بتا رہے
ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے کہا کہ کمشنر کراچی کام کر رہے ہیں۔ جسٹس
اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈپٹی کمشنرز کے بجائے اپنی رپورٹ
پیش کرنی چاہیے تھی،کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ کڈنی پارک ہو یا سب جگہ کام، اپنی
نگرانی میں کروا رہا ہوں۔عدالت نے وکیل مکین ہل پارک نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ
4ماہ کی مہلت دے دی جائے۔چیف جسٹس گلزار احمدنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک
فیملی نے 3 گھروں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ عدالت نے ہل پارک تجاوزات کیس میں مکینوں کی
فریقین بننے کی درخواست مستردکر دی ۔
چیف جسٹس گلزار نے سوال کیا کہ باغ ابن قاسم کی کیا صورتحال
ہے؟کمشنر کراچی نے جواب دیاکہ باغ ابن قاسم میں سبزہ اگانے کا کام جاری ہے، چیف
جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ بتائیں شاہراہ قائدین نالے پر عمارت کا کیا
ہوا؟ کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ ایس بی سی سے نے بتایا کہ نالے پر عمارت نہیں ہے،
چیف جسٹس نے کمشنر کراچی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے کو
چھوڑیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو براہ راست حکم کا مطلب آپ کو
جواب دینا ہے، پورے بلڈنگ ہی نالے پر کھڑی ہے، ایس بی سی اے والے خود ملے ہوئے
ہیں،اچانک سے ایک پلاٹ نکلتا ہے اور کثیر المنزلہ عمارت بن جاتی ہے،ڈی جی ایس بی
سی اے کہاں ہیں ؟۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
کہ آپ ہمارے سامنے کیوں غلط بیانی کر رہے ہیں ، ڈی جی ایس بی سی اے نے جواب دیتے
ہوئے کہا کہ سٹرک کی ری الاٹمنٹ سے پلاٹ نکلا،چیف جسٹس نے ڈی جی سے مکالمہ کرتے
ہوئے کہا کہ کیا پھر بیچ دیں گے، کل سپریم کورٹ کی عمارت پر دعویٰ کردیں گے، سپریم
کورٹ کا لے آوَٹ پلان لے آئیں گے تو ہم کیا کریں گے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ کل سپریم کورٹ کی
عمارت کسی کو دے دیں گے ،آپ لوگ کل وزیراعلیٰ ہاوَس پر کسی کو عمارت بنوا دیں
گے،ہمارے سامنے ایسی غلط باتیں مت کریں، سب معلوم ہے، آپ ریکارڈ ڈیجیٹلائزکیوں
نہیں کرتے؟دنیا کو معلوم ہے ایس بی سی اے کون چلا رہا ہے ،ایک مولوی کو ڈی جی ایس
بی سی اے بنا کر لا کھڑا کردیا،آپکا خیال ہے کہ آپ ڈی جی ایس بی سی اے ہیں،ہر ماہ
ایس بی سی اے میں اربوں روپے جمع ہوتا ہے،سب رجسٹرار آفس، ایس بی سی اے اور ریونیو
میں زیادہ پیسہ بنایا جاتا ہے،سب معلوم ہے کیا ہو رہا ہے،ان اداروں کا حال برا ہے
،آپ کچھ اعتراض کریں گے تو آپ کو ہٹا دیا جائے گا۔
ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ شاہراہ قائدین پر نسلہ ٹاور سے
متعلق بلڈر کو بلا کر پوچھا جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہاں ایس بی سی سے
بلڈر ہی کی تو ترجمانی کر رہا ہے،50 سالہ پرانے علاقے میں اچانک کیسے ایک پلاٹ نکل
آتا ہے؟ کیسے اچانک لیز کردی جاتی ہے ؟ابھی نسلہ ٹاور کی لیز منسوخ کردیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ڈی جی ایس بی اے کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ عمارت گرانے کا کام
شروع کریں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ یہ کیا ہو
رہا ہے؟سندھی مسلم سوسائٹی میں پوری عمارت کو روڈ پر بنایاگیا ہے، سوسائٹی میں اس
نام کا کوئی پلاٹ نہیں ہے ، سوسائٹی حکومت پاکستان کی عمارت ہے ،آپ نے زمین کو
مختیار کار کے حوالے کردیا ہے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیروز آباد میں مختیار کار
کا نام پہلی بار سنا ہے ،مختیار کار کا اختیار شہر میں ہے اس کو صرف کمشنر دیکھ
سکتا ہے ،بورڈ آف روینیو یا مختار کار کراچی کی وسط سے باہر کام کر سکتے ہیں،سندھی
مسلم سوسائٹی کی زمین مختیار کار الاٹ نہیں کر سکتا ۔ چیف جسٹس نے ایڈو کیٹ جنرل
سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آنکھیں کھولیں یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ سرکاری وکیل
کا کہناتھا کہ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں پلاٹ کے متعلق رپورٹ پیش کر دیں گے ، چیف
جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو کیوں وقت دیں ابھی سب سامنے آ جائےگا ، یہ سارے
کاغذات جعلی ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمشنرکراچی صاحب بتائیں آپ
کاکیاگریڈہے؟ کمشنر کراچی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں 21 گریڈکاافسرہوں،چیف جسٹس
گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمشنر کو ہٹانے جارہے ہیں ، بڑی معذرت
کےساتھ ایساکہامگرہمارے سا منے ایسی رپورٹ ہیں کیاکریں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے
ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے کراچی کوکیاسمجھ رکھاہے؟اب آنکھیں کھولنے کاوقت آگیا،کراچی
کیپیٹل سٹی رہاہے،کیابنادیااس شہرکو؟ ایڈووکیٹ جنرل صاحب،ایسی بات کررہےہیں جیسے
کراچی کونہیں جانتے، افسوس ہے انہیں کراچی کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں، کوئی
قابل افسرہوتاتوایک منٹ میں ہسٹری بتادیتا۔
کمشنر کراچی ،ڈی جی ایس بی سی اے کوپتا نہیں بعدمیں کتنے نیب
کیس بنیں گے۔ چیف جسٹس نے کمشنر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا
کچھ نہیں پتا یہ صرف ربر اسٹیمپ ہیں، ہمارے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں تو لوگوں کے
لئے کتنی مشکلات پیدا کرتے ہوں گے،ہم نے میٹنگ کا کہا تھا کچھ نہیں کیا شہر کے لئے
نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سے رپورٹ مانگی تھی،کچھ ذکرہی نہیں،چی سی
ایم صاحب نے توکہہ دیاسب اچھاہے، وزیراعلیٰ سندھ سے کہاتھابتائیں شہرکی بہتری کیسے
کرسکتے ہیں۔
اسلام آباد (ڈیلی پاکستا ن آن لائن )سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سید
یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے خلاف انٹر ا کورٹ اپیل دائر کر دی
ہے تفصیلات کے م طابق یوسف
رضا گیلانی کی جانب سے انٹرا کورٹ اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے جس
میں سنگل بینچ کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔چیف جسٹس
اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے یوسف رضا گیلانی کی درخواست مسترد کی تھی
۔سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹر اکورٹ اپیل دائر کی گئی
ہے ، انٹراکورٹ اپیل فاروق ایچ نائیک،جاوید اقبال وینس اوربیرسٹرعمر شیخ کے ذریعے
دائرکی گئی۔ عدالت میں سینیٹ الیکشن سے متعلق پریزائیڈن افسر کے فیصلے کو بھی فوی معطل
کرنے کی استدعا کی گئی ہے ، یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جاوید اقبال وینس نے انٹر
اکورٹ اپیل دائر کی ،جس میں استدعاکی گئی ہے کہ سات ووٹ مسترد کرنے کے پریزائیڈنگ
افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ۔
پاکستان
کی جانب سے دئیے گئے 321 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 292رنز
بناسکی۔جنوبی افریقہ کےمیلان 70،مارکرم 18، سمٹس 17 اور کپتان ٹمبا بووما 20، کائل ورائن 62 ، پھیلکوائیو 54،ہینڈرکس ایک، کشف مہاراج 19 رنز بناکر آؤٹ
ہوئے۔پاکستان کی جانب سے محمد نواز اورشاہین شاہ آفریدی نے تین تین ، حارث روف
نے دو جبکہ حسن علی اور عثمان قادر نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔محمد
نواز نے ایک ہی اوور میں دو اہم بلے بازوں
میلان اور ٹمبا بووما کو پویلین کی راہ دکھلا کر پاکستان کی جیت میں اہم
کردار ادا کیا۔
پاکستان
نے فخر زمان اور کپتان بابراعظم کی شاندار بلے بازی کی بدولت فیصلہ کن معرکے میں
پاکستان نے جنوبی افریقہ کو جیت کیلئے 321رنز کا ہدف دے دیا ہے۔ جنوبی افریقہ نے
ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی جس پر پاکستان
نے مقررہ اوورز میں 6وکٹوں کے نقصان پر 320رنز
بنائے جس میں سب سے اہم کر دار فخر زمان کا رہا جنہوں نے سینچری سکور کی
جبکہ دوسرے نمبر پر بابراعظم نے ٹیم کو 94رنز کی اننگ کھیل کر بڑی سپورٹ فراہم کی۔
تیسرے نمبر پر کارکردگی دکھانے والے بلے باز امام الحق رہے جنہوں نے 57رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے
فخر زمان اور امام الحق نے میدان میں اتر کر کھیل کا آغاز کیا۔امام الحق نے شاندار بلے بازی کا
مظاہرہ کرتے ہوئے نصف سینچری بنائی لیکن 112 رنز کے مجموعے پر 57 رنز بنا کر
کیشو مہاراج کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے۔ ان کے ساتھ اوپننگ پر آنے والے
فخر زمان نے بہترین بلے بازی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے 99 گیندوں پر 9 چوکوں اور تین
چھکوں کی مدد سے سینچری مکمل کی لیکن مزید آگے نہ جا سکے اور 206 رنز کے مجموعے
پر 101 رنز بنا کر مہاراج کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے ۔تیسرے نمبر پر آنے والے
وکٹ کیپر محمد رضوان 214 رنز کے مجموعے پر افریقی باولر کیشو مہاراج کی گیند کا
نشانہ بنے اور محض دو سکور بنا کر پولین
لوٹ گئے۔
قومی
ٹیم کے سابق کپتان محمد سرفراز لمبے عرصہ کے بعد ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے
لیکن خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور 246 رنز کے مجموعے پر 13 رنز بنا کر سموٹس کی گیند
پر آوٹ ہو گئے۔فہیم اشرف صرف ایک سکور بنانے میں کامیاب ہوئے اور مرکرام کا نشانہ
بن گئے ۔محمد نواز چار سکور بنا کر پولین لوٹ گئے۔قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم نے
82گیندوں پر 94رنز بنا کر ناقابل شکست اننگ کھیلی ۔
قومی
ٹیم میں جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں چار تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔
آصف علی ، دانش عزیز، محمد حسنین اور شاداب کو ٹیم سے باہر کر دیا گیاہے جبکہ ان
کی جگہ حسن علی ، سرفراز احمد ، محمد نواز اور عثمان قادر کو شامل کیا گیاہے ۔
پاکستان
کے سکواڈ میں امام الحق، فخر زمان، بابراعظم ، محمد رضوان، سرفراز احمد، محمد
نواز، فہیم اشرف، حسن علی ،شاہین شاہ آفریدی، عثمان قادر اور حارث روف شامل ہیں۔جنوبی
افریقہ کے پلئینگ الیون میں جانے من میلان، ایڈن مرکرام، جان سموٹس، ٹیمبا بوماوا،
کیل ویرائن، ہنرچ کلاسن، اینڈائل پھیلوک وایو، کیشو مہاراج، بیورن ہینڈرکس،
ڈرائن،لوتھو سمپالا شامل ہیں۔
